ابنا: ایک اردو ویب سائٹ پر جاری ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض پاکستانی خواتین کی شام رو انگی اور جہاد النکاح کے نام پر بیک وقت کئی کئی افراد سے ان کی شادی خبریں بے بنیادہیں۔اس خبر کے مطابق پاکستان کے علما اور مفتیوں نے سعودی مفتیوں کے جہاد النکاح ( جنسی جہاد) سے متعلق فتوؤں کو یکسر مسترد کردیا ہے، حتی سعودی عرب سے نزدیک ترین مدارس اور مذھبی شخصیات نے ان فتوؤں کو انتہائی مضحکہ خیز قرادیا ہے۔واضح رہے کہ جہاد النکاح کی نام پر سب سے پہلے تیونسی لڑکیوں کے شام جانے کی خبریں منظر عام آئی تھیں اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی ایک کالعدم تنظیم کے ایک سر کردہ لیڈرکی اہلیہ کے شام جانے اور جنسی جہاد میں شرکت کے بعد ترکی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی خبروں نے پاکستان کے سماجی حلقوں میں ہلچل مچادی تھی۔تیونس کے مفتی نے تکفیری دہشتگردوں کی صفوں میں تیونس کی خواتیں کی موجودگي کو بے راہ روی اور اخلاقی فساد سے تعبیر کرتے ہوئے اپنے عھدے سے استعفی دیدیا ہے۔ .....
/169